Showing posts with label Security Cheque. Show all posts
Showing posts with label Security Cheque. Show all posts

Wednesday, June 24, 2026

Checque of security


 

 

     سیکیورٹی چیک کا قانونی مقام


⚖️ ضمانتی چیک پر دفعہ 489-F کا اطلاق نہیں ہوتا — سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ (2024 SCMR 1567)


سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2024 SCMR 1567 (Muhammad Anwar v. The State) میں ایک نہایت اہم قانونی اصول واضح کیا ہے کہ محض کسی شخص کے پاس چیک کا ہونا یا چیک کا اجرا ہونا، بذاتِ خود تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 489-F کے تحت جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔

عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ دفعہ 489-F کے اطلاق کے لیے درج ذیل بنیادی عناصر کا موجود ہونا ضروری ہے:

✅ چیک بدنیتی (Dishonest Intent) کے ساتھ جاری کیا گیا ہو۔

✅ چیک کسی قرض، واجب الادا رقم یا قانونی مالی ذمہ داری (Obligation) کی ادائیگی کے لیے دیا گیا ہو۔

✅ چیک بینک سے ڈس آنر (Dishonour) ہو گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے مقدمہ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد یہ مشاہدہ کیا کہ متعلقہ چیک کسی قرض یا مالی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے جاری نہیں کیا گیا تھا بلکہ معاہدے کے تحت بطور ضمانت (Security/Guarantee) دیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ شکایت کنندہ یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا کہ اس نے ملزم کو رقم ادا کی تھی یا کوئی ایسی مالی ذمہ داری موجود تھی جس کی ادائیگی کے لیے چیک جاری کیا گیا ہو۔

عدالت نے قرار دیا کہ جب چیک صرف بطور سکیورٹی یا گارنٹی دیا گیا ہو اور اس کے بدلے کوئی قابلِ ادائیگی قرض یا ذمہ داری ثابت نہ ہو تو دفعہ 489-F کے ضروری اجزاء پورے نہیں ہوتے۔ چنانچہ سپریم کورٹ نے ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-Arrest Bail) منظور کرتے ہوئے اسے ریلیف فراہم کیا۔

قانونی نکتہ:

"ضمانتی (Security) چیک اور ادائیگی (Payment) کے چیک میں فرق کو ہمیشہ مدنظر رکھا جائے گا۔ صرف چیک کا ڈس آنر ہونا دفعہ 489-F کے تحت جرم قائم کرنے کے لیے کافی نہیں، بلکہ اس کا کسی واجب الادا قرض یا مالی ذمہ داری سے تعلق ثابت کرنا بھی ضروری ہے۔"

📖 حوالہ: 2024 SCMR 1567

Muhammad Anwar v. The State

سپریم کورٹ آف پاکستان۔

Checque of security

         سیکیورٹی چیک کا قانونی مقام ⚖️ ضمانتی چیک پر دفعہ 489-F کا اطلاق نہیں ہوتا — سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ (2024 SCMR 1567) سپ...