PERA FORCE
ایف آئی آر کا طریقہ الگ ہے
لاہور ہائیکورٹ، ملتان بینچ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر شکایت پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) کے افسران یا اہلکاروں کے خلاف ہو اور مبینہ جرم Punjab Enforcement and Regulation Act, 2024 کے تحت آتا ہو، تو ایسی صورت میں ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C.) کی دفعہ 154 کے تحت عام ایف آئی آر کے اندراج کا طریقہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے معاملات میں خصوصی قانون میں فراہم کردہ طریقۂ کار پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔
مقدمے میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے پولیس اسٹیشن ممتاز آباد، ملتان میں قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع دی، مگر پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔ بعد ازاں اس نے دفعہ 22-A/22-B ضابطۂ فوجداری کے تحت ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس سے رجوع کیا، تاہم جسٹس آف پیس نے بھی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے سے انکار کر دیا، جس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی گئی۔
عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ شکایت کا تعلق PERA کے اہلکاروں سے تھا، اس لیے یہ معاملہ Punjab Enforcement and Regulation Act, 2024 کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ اس خصوصی قانون کے باب XI میں متعلقہ جرائم، ان کی تحقیقات اور کارروائی کا مکمل طریقہ کار موجود ہے، لہٰذا عام فوجداری قانون کی بجائے اسی قانون پر عمل کیا جائے گا۔
عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 16 کے تحت متاثرہ شخص 30 دن کے اندر متعلقہ Hearing Officer کے سامنے نمائندگی (Representation) دائر کر سکتا ہے۔ اسی طرح دفعہ 49 کے تحت Sub-Divisional Enforcement Officer مخصوص حالات میں خود بھی ایف آئی آر درج کر سکتا ہے، جبکہ دفعہ 53 کے تحت اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایت Grievance Redressal Commissioner (GRC) کے سامنے بھی پیش کی جا سکتی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ جب کسی خصوصی قانون میں شکایت کے ازالے، ایف آئی آر کے اندراج اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا مکمل قانونی نظام موجود ہو تو ایسے معاملات میں دفعہ 154 ضابطۂ فوجداری کے تحت عام ایف آئی آر درج کرانے کا راستہ دستیاب نہیں رہتا۔ اسی بنیاد پر جسٹس آف پیس کا ایف آئی آر درج کرنے سے انکار قانون کے مطابق قرار دیا گیا۔
چنانچہ عدالت نے آئینی درخواست نمٹاتے ہوئے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ Punjab Enforcement and Regulation Act, 2024 کی دفعات 16، 49 اور 53 کے تحت دستیاب قانونی فورمز اور remedies سے رجوع کرے، کیونکہ انہی کے ذریعے اس کی شکایات کا مؤثر ازالہ ممکن ہے۔





